لکیری استحالہ

testwiki سے
Jump to navigation خانۂ تلاش میں جائیں

لکیری استحالہ ایسے استحالہ کو کہتے ہیں جو لکیری آزمائیش پر پورا اترے۔ اگر استحالہ  T(X) درج ذیل آزمائش پوری کرے (یہاں X اور Y ایک سمتیہ مکاں کے ارکان (یعنی سمتیہ) ہیں اور a کوئی بھی عدد میدان   یا میں )

  •  T(aX)=aT(X)
  •  T(X+Y)=T(X)+T(Y)

تو اسے لکیری استحالہ کہتے ہیں۔

میٹرکس ضرب

میٹرکس ضرب سے لکیری استحالہ بنتا ہے۔ اگر X سمتیہ مکاں n کا رکن ہو اور A ایک  m×n میٹرکس، تو لکیری استحالہ یوں لکھا جا سکتا ہے:

Y = A X

جہاں Y سمتیہ فضا m میں ہو گا۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھو میٹرکس تفاعل۔

میٹرکس ضرب صورت

کسی سمتیہ مکاں V میں سمتیہ v کی کسی بنیاد سمتیہ مجموعہ v0,v1,...,vn1 کے حوالے سے منفرد صورت کو n میں یوں لکھو: c=[c0c1cn1]
اب فرض کرو کہ ایک دوسری سمتیہ فضا U ہے اور  T:VU ایک لکیری استحالہ ہے اور  u=T(v)
اب سمتیہ مکاں U میں سمتیہ u کی کسی بنیاد سمتیہ مجموعہ u0,u1,...,um1 کے حوالے سے منفرد صورت کو n میں یوں لکھو: d=[d0d1dm1]
ہم صورت c اور d میں رشتہ جاننا چاہتے ہیں۔
اب چونکہ  T(vi) سمتیہ فضا U میں ہیں، اس لیے انھیں U کے بنیاد سمتیہ کے لکیری جوڑ کے طور پر لکھا جا سکتا ہے: T(v0)=a0,0u0+a1,0u1++am1,0um1T(v1)=a0,1u0+a1,1u1++am1,0um1T(vn1)=a0,m1u0+a1,m1u1++am1,0um1
لکیری استحالہ  u=T(v)
اب v کو سمتیہ فضا V کے بنیاد سمتیہ کے لکیری جوڑ کے بطور لکھتے ہوئے  u=T(c0v0+c1v1++cn1vn1)
اور لکیرے پن کا استعمال کرتے ہوئے ِ
u=c0T(v0)+c1T(v1)++cn1T(vn1)u=c0(a0,0u0+a1,0u1++am1,0um1)+c1(a0,1u0+a1,1u1++am1,0um1)+cn1(a0,m1u0+a1,m1u1++am1,0um1)
چونکہ u کو سمتیہ فضا U کے بنیاد سمتیہ کے لکیری جوڑ کے بطور یوں لکھا تھا u=d0u0+d1u1++dm1um1
اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ [d0d1dm1]=[a0,0a0,1a0,n1a1,0a1,1a1,n1am1,0am1,1am1,n1][c0c1cn1] اب اس  m×n میٹرکس کو ہم A کہتے ہوئے اوپر کی مساوات جو سمتیہ فضا U کے کسی سمتیہ u کی صورت d اور سمتیہ فضا V کے سمتیہ v کی صورت c کے درمیان رشتہ ایک میٹرکس ضرب کے طور بتاتی ہے، یوں لکھتے ہیں:

 d=Ac

غور کرو کہ میٹرکس A دونوں سمتیہ فضا (V اور U) میں انتخاب کردہ بنیاد سمتیہ مجموعہ  {vi} اور  {ui} پر منحصر ہے۔ میٹرکس A کی ہیئت پر غور کرو۔ میٹرکس A کا ہر ستون حاصل کرنے کے لیے، سمتیہ فضا V کے ایک بنیاد سمتیہ  vi کو T کے ذریعہ U میں بھیجا جاتا ہے اور  T(vi) کو سمتیہ فضا U کے بنیاد سمتیہ مجموعہ  {ui} کے لکیری جوڑ کے طور پر لکھنے سے جو عددی سر a.,. حاصل ہوتے ہیں، یہ میٹرکس کا ایک ستون بنتے ہیں۔

مثال 1

ایک لکیری استحالہ  T:2subspace(3) فائل:Simtia planes 3 2.png جو یوں ہے T([xy])=[xy6x+17y] اور جو سمتیہ فضا V=2 سے 3 کی ذیلی سمتیہ فضا U میں بھیجتا ہے۔ اس ذیلی سمتیہ فضا کو تصویر میں نیلے پلین سے دکھایا گیا ہے۔ 2 میں بنیاد سمتیہ مجموعہ کے لیے ہم قدرتی بنیاد سمتیہ مجموعہ کا انتخاب کر لیتے ہیں، یعنی v0=[10],v1=[01]
اور 3 کی اس ذیلی سمتیہ فضا میں بنیاد سمتیہ مجموعہ u0=[106],u1=[1111]
۔ اب V کے بنیاد سمتیہ کو T کے ذریعہ U میں بھیج کر U کے بنیاد سمتیہ کے لکیری جوڑ کے بطور یوں لکھتے ہیں T(v0)=1u0+0u1
T(v1)=1u0+1u1
جس سے ہم میٹرکس A پڑھ لیتے ہیں A=[1101],

مثال 2

درجہ اول کے کثیر رقمی کی فضا کو V کہو اور درجہ دوم کے کثیر رقمی کو فضا U کہتے ہوئے، ایک لکیری استحالہ T:VU یہ ہے T(p1(x))=xp1(x)
یہاں درجہ اول کے کثیر رقمی کو p1(x) لکھا ہے۔
فضا V میں بنیاد سمتیہ v0=1,v1=x
اور فضا U میں بنیاد سمتیہ u0=1,u1=x,u2=x2
اب V کے بنیاد سمتیہ پر لکیری استحالہ T کے ذریعہ U میں لے جا کر، ان کو U کے بنیاد سمتیہ کے لکیری جوڑ کے بطور لکھ کر T(v0)=x=0u0+1u1+0u2
T(v1)=x2=0u0+0u1+1u2
میٹرکس A پڑھ لو A=[001001],

مسلئہ اثباتی

ایک سمتیہ مکاں S پر لکیری استحالہ T:SS ہو۔ اس سمتیہ فضا میں ایک بنیاد سمتیہ مجموعہ  {vi}کے لحاظ سے اس استحالہ کی صورت میٹرکس A ہو۔ اب اگر اسی فضا کا ایک اور بنیاد سمتیہ مجموعہ  {ui} ہو اور اس مجموعہ کے حوالے سے استحالہ کی صورت میٹرکس B ہو، تو دونوں میٹرکس میں نسبت یوں لکھی جا سکتی ہے
 B=P1AP
جہاں میٹرکس P مجموعہ  {ui} سے مجموعہ  {vi} لے جانی والی منتقلہ میٹرکس ہے۔ گویا A اور B مشابہ میٹرکس ہیں۔

مزید دیکھیے

سانچہ:ریاضی مدد