بےز مسئلہ اثباتی

testwiki سے
Jump to navigation خانۂ تلاش میں جائیں

سانچہ:اصطلاح برابر

فائل:Partition of sample space.png
تصویر 1

اگر واقعات A1,A2,,An کسی نمونہ فضا S کا بٹوارا ہوں، یعنی

A1A2An=S

اور اس کے علاوہ یہ باہمی ناشمول واقعات بھی ہوں، یعنی

AiAj=Φ,i,j{1,2,,n}

اور Pr(Ai)>0، تو کسی واقعہ B کے لیے (اگر Pr(B)>0)، بٹوارے کے کسی "واقعہ  Ai کا احتمال جبکہ واقعہ B" کو یوں لکھا جا سکتا ہے:

Pr(Ai|B)=Pr(AiB)Pr(B)=Pr(B|Ai)Pr(Ai)k=1nPr(B|Ak)Pr(Ak)

جہاں ہم نے کُل احتمال کے قانون کا استعمال کیا ہے۔

مثال

فرض کرو کہ کسی بیماری کی تشخیص کے لیے ایک اختبار دستیاب ہے، مگر بیماری (disease) موجود ہونے کی صورت میں یہ اختبار 99 فیصد وقوع میں صحیح مثبت (positive) نتیجہ دیتا ہے، یعنی مشروط احتمال

 Pr(positve|disease)=0.99,Pr(negative|disease)=0.01

بیماری نہ ہونے کی صورت (no disease) میں یہ اختبار 98 فیصد وقوع میں صحیح منفی (negative) نتیجہ دیتا ہے، یعنی مشروط احتمال

 Pr(positve|no disease)=0.02,Pr(negative|no disease)=0.98

آبادی میں اس بیماری کا تناسب ہزار میں ایک ہے، یعنی بنفسیہ احتمال

 Pr(no disease)=0.999,Pr(disease)=0.001

اب ہم جاننا چاہتے ہیں کہ اگر کسی شخص کا اختبار کا نتیجہ مثبت نکلتا ہے، تو اس کا کیا احتمال ہے کہ اس شخص کو واقعی یہ بیماری ہے، یعنی ہم  Pr(disease|positive) جاننا چاہتے ہیں۔ اب بے ز قاعدہ کا استعمال کرتے ہوئے

Pr(disease|positive)=Pr(positive|disease)Pr(disease)Pr(positive|disease)Pr(disease)+Pr(positive|no disease)Pr(no disease)

اقدار ڈالتے ہوئے

Pr(disease|positive)=0.99×0.0010.99×0.001+0.02×0.999=0.047

یعنی اختبار کا نتیجہ مثبت ملنے پر واقعی بیماری ہونے کا احتمال صرف 4.7 فیصد ہے۔ اگر آپ کے لیے اس مثال کا نتیجہ حیران کن ہے تو غور کریں یہ بنفسیہ احتمال  Pr(disease)=0.001 کا اثر ہے۔

اس مثال سے یہ بھر پور طریقہ سے واضح ہوا کہ Pr(disease|positive)Pr(positive|disease)

بے ز قاعدہ کی مختلف شکل

سانچہ:اصطلاح برابر اوپر دیے بے ز قاعدہ کو مختلف شکل میں لکھا جا سکتا ہے۔ اگر ایک واقعہ M ہے اور اس کا متمم M¯، تو ان کے احتمال کا تناسب

Pr(M)Pr(M¯)

اس مفروضہ (واقعہ) M کے odds کو ظاہر کرتا ہے۔ واضح رہے کہ:

Pr(M¯)=1Pr(M)

اب اگر ایک واقعہ C رونماء ہوتا ہے، جس سے ہمیں مفروضہ M کے بارے میں کچھ نئی معلومات ملتی ہیں، تو اس نئی معلومات کی روشنی میں مفروضہ M کے نئے odds یہ ہوں گے

Pr(M|C)Pr(M¯|C)=Pr(M)Pr(M¯)Pr(C|M)Pr(C|M¯)

جہاں Pr(C|M)Pr(C|M¯) کو امکاناتی تناسب کہا جاتا ہے۔ نظریہ احتمال و احصاء کی زبان میں مفروضہ کے اصلی odds کو بنفیسہ odds کہا جاتا ہے اور نئے odds کو بمثلیہ odds کہتے ہیں۔ یعنی بے ز قاعدہ کی مختلف شکل یوں ہے:

(بمثلیہ odds ) = (بنفیسہ odds) × (امکاناتی تناسب)

اوپر کی بے ز مساوات کے numerator اور denominator میں بے ز قاعدہ کے استعمال سے اس مساوات کی تصدیق ہوتی ہے، مثلاً numerator کے لیے

Pr(M|C)=Pr(MC)Pr(C)=Pr(C|M)Pr(M)Pr(C)

مثال

فرض کرو کہ ایک شخص پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا ہے۔ مفروضہ یہ ہے کہ یہ شخص ڈاکو تھا۔

M=مفروضہ (ڈاکو تھا)
M¯= نفی مفروضہ (ڈاکو نہیں تھا)

فرض کرو کہ پولیس مقابلے میں مرنے والوں کے ڈاکو ہونے اور نہ ہونے کا تناسب 5 ہے، یعنی

Pr(M)Pr(M¯)=5,Pr(M)=56

اب نیا ثبوت سامنے آتا ہے کہ مرنے والا مسلح نہیں تھا۔

C=مسلح نہیں تھا

فرض کرو کہ غیر مسلح شخص کے ڈاکو ہونے اور ڈاکو نہ ہونے کا تناسب 1/8 ہے، یعنی Pr(C|M)Pr(C|M¯)=18

اس ثبوت کی روشنی میں مرنے والے کے ڈاکو ہونے کے بمثلیہ odds ہوں گے

Pr(M|C)Pr(M¯|C)=51×18=58

جس سے مرنے والے کے ڈاکو ہونے کا احتمال بنتا ہے

Pr(M|C)1Pr(M|C)=58,Pr(M|C)=513

یاد کرو کہ اس نئے ثبوت کے مہیا ہونے سے پہلے مرنے والے کے ڈاکو ہونے کا احتمال 56 تھا (83 فیصد)، جو اب کم ہو کر 513 رہ گیا ہے (38 فیصد)۔

== مزید دیکھیے ==* مشروط احتمال* کُل احتمال کا قانون

سانچہ:ریاضی مدد