کثیر اعداد کا قانون

testwiki سے
Jump to navigation خانۂ تلاش میں جائیں

سانچہ:اصطلاح برابر کسی تجربہ کو بار بار دہرایا (آزمائش کی) جائے اور یہ آزمائش باہمی آزاد ہوں۔ فرض کرو کہ واقعہ A ان n آزمائشوں میں nA بار وقوع پزیر ہوتا ہے، تو واقعہ A کا تعدد کو یوں لکھتے ہیں

fn(A)=nAn

جو ایک عدد ہے صفر (0) اور ایک (1) کے درمیان۔ جس طرح آزمائش کی تعداد بڑھائی جائے گی، تو اس تعدد میں تغیر کم ہوتا چلا جائے گا اور جب آزمائش کی تعداد لامحدود کی طرف بڑھائی جائے گی تو یہ تعدد ایک حد کی طرف مرکوز ہو گا۔ اس قانون کو کثیر اعداد کا تجربی قانون کہا جاتا ہے۔

فرض کرو کہ ایک سکہ بار بار ہوا میں اچھالا جاتا ہے۔ اس کی نمونہ فضا Head اور Tail پر مشتمل ہے۔ آزمائش n پر ہم کہتے ہیں Xn تصادفی متغیر ہے جو قدر 1 لیتا ہے اگر نتیجہ Head ہو اور قدر 0 لیتا ہے اگر نتیجہ Tail ہو۔ Xn(ω)={1,<mrow data-mjx-texclass="ORD">if<mspace width="0.167em"></mspace>Head</mrow>0,<mrow data-mjx-texclass="ORD">if<mspace width="0.167em"></mspace>Tail</mrow>}

تعریف کرو

Tn(ω)=X1+X2++Xn

اب ہم توقع کریں گے کہ اس جمع کی اوسط 0.5 ہونی چاہیے، یعنی

limnTn(ω)n=12

مگر ایسے نتائج کا متوالیہ ω بھی ہوں گے جن میں "سر" (Head) کی تعداد محدود ہو گی، اس لیے ان متوالیہ کے لیے یہ حد مرکوز نہیں ہو گی۔ مگر ہم توقع کرتے ہیں کہ قدرت یہ یقینی بنائے گی کہ اس طرح کے متوالیہ کی تعداد خفیف ہو گی۔ احتمال نظریہ میں ہم یہ کہتے ہیں کہ limnTn(ω)n=12 سچ ہو گا، احتمال 1 کے ساتھ۔ یعنی

Pr({ω:limnTn(ω)n=12})=1

یہ کثیر اعداد کا قوی قانون ہے۔

سانچہ:ریاضی مدد