تطویل (منطق)
Jump to navigation
خانۂ تلاش میں جائیں
سانچہ:اصطلاح برابر ریاضاتی منطق میں تطویل ایسے مرکب مستلف کو کہتے جو ہمیشہ سچ ہو چاہے اس میں پائی جانے والی مستلف کی اقدار کچھ بھی ہوں۔ مثال کے طور پر تطویل ہے جیسا کہ اس کے سچائی جدول سے ظاہر ہے کہ یہ ہمیشہ سچ ہے۔
| p | ||
| T | F | T |
| F | T | T |
تطویل کے نفی کو تضارب کہتے ہیں، یعنی یہ ہمیشہ جھوٹ ہوتی ہے چاہے اس میں پائی جانے والی مستلف کی اقدار کچھ بھی ہو۔ مثال کے طور پر تضارب ہے جیسا کہ اس کے سچائی جدول سے ظاہر ہے کہ یہ ہمیشہ جھوٹ ہے۔
| p | ||
| T | F | F |
| F | T | F |
واضح رہے کہ مرکب مستلف اور مرکب مستلف ایک دوسرے کے نفی ہیں
ایسی مستلف جو نہ تو تطویل ہو اور نہ متضارب، کو امکانیہ کہا جاتا ہے۔