نظریۂ عدد

testwiki سے
نظرثانی بتاریخ 09:22، 14 جنوری 2024ء از imported>Tahir-bot (Category:Short description is different from Wikidata سے Category:ویکی ڈیٹا سے مختلف مختصر وضاحت میں منتقل کر دیئے گئے بذریعہ گروہ زمرہ بندی)
(فرق) → پرانا نسخہ | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)
Jump to navigation خانۂ تلاش میں جائیں

سانچہ:اصطلاح برابر

نظریہ اعداد شاخ ہے خالص ریاضیات کی جو عاماً اعداد کے خاصوں سے متعلق ہے اور خاصاً صحیح اعداد (Integers) کے اور ان کے مطالعہ میں پیدا ہونے والے مسائل کی وسیع تر جماعتوں سے ۔ نظریہ اعداد کو ذیلی میدانوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، استعمال ہونے والے طرائق کے مطابق اور تشویش کردہ سوالوں کی قسم کے لحاظ سے ۔

جب قدرتی اعداد کو مرغولہ (Spiral) میں سجایا جاتا ہے اور اولی عدد (Prime Number) کو تاکید دیتے ہوئے، تو ایک دساس قرینہ (Pattern) مشاہد ہوتا ہے، جسے عالم مرغولہ (Ulam spiral) کہتے ہیں۔

اصطلاحات حساب یا "حسابِ اعلٰی" کے اسم بھی نظریہ عدد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ قدرے پرانی اصطلاحات ہیں اور اب اتنی معروف نہیں جتنی کبھی پہلے تھیں۔ البتہ لفظ "حساب" بطور اسم صفت معروف ہے بجائے کہ زیادہ بوجھل فقرہ "عدد-نظریاتی" اور "کا حساب" بھی بجائے کہ " کا عدد نظریہ "، مثل حسابی ہندسہ (Arithmetic Geometry) حسابی دالہ (Function)، بیصوی منحنی کا حساب (Elliptic Curves Arithmetic)۔

میدان

تاریخ

یونانی نظریہ عدد

اعداد کا مطالعہ یونانی ریاضیدانوں کا محبوب مشغلہ تھا۔ قدیم مصریوں سے ڈایوفینٹین مساوات کا علم یونانیوں کو ملا، جس کا نام یونانی ڈیوفانٹس (Diophantus) پر اب جانا جاتا ہے۔

برصغیری نظریہ عدد

قدیم برصغیر میں ڈیوفنٹین مساوات کو وسیع مطالعہ ریاضیدانوں نے کیا۔ آریابھاٹا (499ء) نے لکیری ڈیوفنٹین مساوات جس کی ہیئت ay+bx=c ہو کا جامع حل پیش کیا۔

اسلامی نظریہ عدد

عرب مسلم ریاضیدانوں نے 9 ویں صدی سے نظریہ عدد میں گہری دلچسپی لینی شروع کی۔ ان ریاضیدانوں میں سے پہلا ثابت بن قرة تھا جس نے ایسا الخوارزم دریافت کیا جس سے محبانہ اعداد (Amicable Number) کے جوڑے ڈھونڈے جا سکتے تھے، یعنی ایسے اعداد کہ ہر عدد کے صالح قاسموں کی جمع دوسرے عدد کے برابر ہو۔ دسویں صدی میں ابن طاہر بغدادی نے ثابت بن قرہ کے مسئلہ کے تھوڑے انحراف پر نظر ڈالی۔

10 ویں صدی میں ابن ہیثم نے تمام جفت کامل اعداد (Perfect Number) (اعداد جو اپنے صالح قاسموں کی حاصل جمع ہوں) کی جماعت بندی کی جن کی ہیئت  2k1(2k1) ہوتی ہے، جہاں 2k1 اولی عدد ہے۔ ابن ہیثم نے یہ قضیہ بھی دیا کہ اگر p اولی عدد ہو تو عدد 1+(p1)! تقسیم ہوتا ہے p سے (اس قضیہ کو بعد میں یورپی عالموں نے اپنے ولسن کے نام سے منسوب کر دیا، اس قضیہ کا ثبوت 1771 میں لاگرینج نے دیا)۔

13ویں صدی میں فارس ریاضیدان الفارسی نے ثابت قضیہ (Thabit Number) کا نیا ثبوت پیش کیا، جس میں اس نے تجزی اور تالیفیات (Combinatorics) کے اہم نئے طرائق متعارف کرائے۔ اس کے علاوہ اس نے محبانہ اعداد جوڑا 17296, 18416 بتایا جو غلطی سے عائلر سے منسوب کیا جاتا ہے (غالبا ثابت کو بھی یہ جوڑا معلوم تھا)۔ محمد باقر یزدی نے محبانہ جوڑا 9,363,584 اور 9,437,056 دیا۔

مزید دیکھیے

سانچہ:Mathematics-footer

حوالہ جات

سانچہ:حوالہ جات